یمنی ذرائع ابلاغ نے فاش کیا ہے کہ یمن کے بارے میں سعودی عرب دوگانہ پالیسی پر گامزن ہے سعودی عرب کے ربع الخالی مقام پر یمنی علیحدگی پسندوں کو تربیت دی جارہی ہے۔جن کی نگرانی ملک عبداللہ کے بیٹے امیر متعب براہ راست کررہے ہیں۔
یمنی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اپنے مفادات کے لئے یمن کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے ذرائع کے مطابق سعودی عرب اس اقدام سے امریکہ کی توجہ اپنے طرف مبذول کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ نے اس کا فیصلہ یمن میں اپنی تحقیقات کے نتائج پر جھوڑا ہے۔
دوسری طرف سے الحوثی گروہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے حوثی گروہ کے خلاف یمنی سرحد کے دونوں طرف مسلح افراد کی تربیت کا سلسلہ شروع کیا ہے اور سعودی عرب کے وہابی شیوخ کو القاعدہ کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی تاکید کی ہے۔
سعودی عرب کے اخبار نے حال ہی میں فاش کیا تھا کہ سعودی حکومت یمن کے شمال میں جاری لڑائی میں ملوث ہے؛ سعودی عرب القاعدہ کی کارروائیوں کا بھی مرکز ہے جہاں سے القاعدہ اور افغانستان اور پاکستان میں سرگرم طالبان وہابی دہشت گردوں کو مالی مدد فراہم کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ بڑی تعداد سعودی باشندوں کو عراق ، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں گرفتار کیا گیا ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متعدد سعودی باشندے مقامی آبادیوں کے خلاف لڑتے ہوئے بلاک ہوگئے ہیں۔ بشکریہ از مہرنیوز